بھٹکل:6/اپریل(ایس اؤنیوز)منگلورو سی سی بی پولس کے ذریعے معصوم نوجوان احمد قریشی کو غیر قانونی طورپر گرفتار کرکے حملہ کرنےکے علاوہ اس کی مذمت میں احتجاج کررہے مسلم تنظیموں کے لیڈروں اور کارکنوں پر لاٹھی چارج کرکے پولس نے ظلم ڈھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا بھٹکل کی طرف سے بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر کو میمورنڈم دیا گیا۔
میمورنڈم میں پولس کے ظلم کی کرتوتوں کو تحریر کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ پوچھ تاچھ کے نام پر احمد قریشی کو 7دنوں تک غیرقانونی طورپر قید میں رکھاگیا ، کھانا، پینا دئیے بغیر اس پر بے تحاشہ ظلم ڈھایا گیا ، جس سے اس کے گردے ناکارہ ہوگئے ، فی الحال وہ وینلاک اسپتال کے آئی سی یو میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہاہے، گرفتاری پر گھروالوں نے زبردست اعتراض جتایا تو اس پر اقدام قتل کے کیس میں ملزم بنایا گیا ہے،حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شہریوں نے معصوم نوجوان پر ڈھائے گئے ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کیا تو پولس نے من مانی کرتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کیا ہے۔ احتجاج میں شامل 65سے زائد کارکنان زخمی ہوئے ہیں، شدید زخمی 6لوگ اسپتال میں زیر علاج ہیں، پولس کا رویہ انصاف کو دبانے کی کوشش ہے، حکومت فوری طورپر معاملے پر توجہ دے ، اس کے لئے وجہ سبب بنے سی سی بی انسپکٹر سنیل نائک، سب انسپکٹر شیام سندر سمیت خاطی پولس عملے کو معطل کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ بھٹکل اے سی منجوناتھ نے میمورنڈم وصول کیا۔ پی ایف آئی کے بھٹکل ڈیویژن کے صدر سراج الدین، کاپوکے سابق صدرمنیر احمد، مقبول ، ایوب ، ظہیر، عاکف وغیرہ موجود تھے۔